ایک ایسی تپتی ہوئی زمین، جہاں آسمان سے آگ برستی ہو اور ریت کے ذرات تانبے کی طرح دہک رہے ہوں۔ ایک طرف ستر ہزار کا لوہے میں ڈوبا ہوا، بپھرا ہوا لشکر، اور دوسری طرف صرف بہتر (72) نفوس؛ جن میں پیاس سے نڈھال بچے، پردہ نشین خواتین اور چند ایسے جوان شامل ہوں جن کے چہروں پر خوف کا نام و نشان تک نہ ہو۔
یہ تاریخ کا کوئی عام معرکہ نہیں تھا۔ یہ محض دو شہزادوں یا دو قبیلوں کی جنگ نہیں تھی۔ یہ زمین کے کسی ٹکڑے کے لیے خون بہانے کی داستان بھی نہیں تھی۔
یہ کائنات کا وہ عظیم ترین معرکہ تھا جہاں طاقت کا سامنا عزم سے تھا؛ جہاں ایک طرف دمشق کے شاہی محلات، مال و دولت اور خوف کی سلطنت تھی، اور دوسری طرف رسولِ اکرم ﷺ کے نواسے کا تہی دست، پیاسا، مگر ناقابلِ شکست ضمیر تھا۔
بچپن سے آج تک ہم نے محرم کے مہینے میں کربلا کا ذکر سنا ہے۔ ہم نے مجالس سنیں، آنسو بہائے اور درد محسوس کیا۔ لیکن افسوس! ہم میں سے بہت سے لوگ آج تک اس عظیم واقعے کی پوری زنجیر کو جوڑ نہیں پائے۔
کربلا کا آغاز کہاں سے ہوا؟ –
وہ کون سے حالات تھے جنہوں نے نواسۂ رسول ﷺ کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا؟ –
کیا اہلِ کوفہ واقعی بے وفا تھے، یا وہ کسی گہری سیاسی سازش کا شکار ہوئے؟ –
اور سب سے بڑھ کر، مبالغہ آرائی اور من گھڑت قصوں کے ہجوم میں سچ اور مستند تاریخ آخر کہاں چھپ گئی؟ –
ہم نے امام حسینؑ کے مصائب پر رونا تو سیکھ لیا، لیکن افسوس کہ ہم حسینؑ کے انقلاب، ان کے مقصد اور ان کے پیغام کو اپنے دلوں میں اتارنا بھول گئے۔
یہ پندرہ اقساط پر مشتمل سلسلہ آپ کو آج کے دور سے نکال کر سن 60 ہجری کی ان گلیوں میں لے جائے گا جہاں تاریخ رقم ہو رہی تھی۔
: یہ کوئی روایتی، خشک یا محض رلا دینے والا بیان نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا بصری اور دل نشین بیانیہ ہے جس میں آپ خود کو
مدینہ کی اس تاریک رات میں گورنر ہاؤس کے اندر کھڑا محسوس کریں گے۔ –
مکہ کی جانب جانے والے راستوں کی دھول اپنے چہرے پر محسوس کریں گے۔ –
اور کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر قائم خیموں میں بچوں کی پیاس کی شدت کو اپنے دل میں محسوس کریں گے۔ –
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تحریر کا ایک ایک لفظ مستند تاریخی مآخذ، جیسے تاریخِ طبری، البدایہ والنہایہ اور الکامل فی التاریخ کی روشنی میں لکھا گیا ہے، تاکہ آپ کے ذہن میں موجود ہر الجھن دور ہو سکے اور حقیقت اپنے پورے نور کے ساتھ سامنے آ سکے۔
آج کے نوجوانوں کے لیے کربلا ایک منشورِ حیات کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب زندگی میں ایک طرف آسائشوں سے بھرپور آرام طلب ماحول ہو اور دوسری طرف اصولوں اور حق کی جنگ، تو انسان کو کس راستے کا انتخاب کرنا چاہیے۔
امام حسینؑ کا کردار ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے سر نہ جھکانا ہی حقیقی زندگی اور حقیقی آزادی ہے۔
آئیے! اپنے دل کے دریچے کھولیں، جذباتی وابستگی کے ساتھ عقل و شعور کے چراغ بھی روشن کریں، اور حق و باطل کے اس ابدی سفر کا آغاز کریں۔
پڑھتے جائیے، اور محسوس کیجیے کہ آپ خود کربلا کے مسافر ہیں۔
اس سیریز کو تیار کرتے وقت ہماری سب سے پہلی ترجیح یہ تھی کہ سانحہ کربلا جیسے عظیم واقعے کو کسی بھی مخصوص مسلکی سوچ، نظریات یا اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ امتِ مسلمہ کو جوڑنے اور تاریخ کا سچا رخ سامنے لانے کے لیے، ہم نے تاریخِ اسلام کی ان بہترین، قدیم اور معتبر ترین کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کی علمی حیثیت پر پوری اسلامی دنیا کا اتفاق ہے
مصنف: علامہ حافظ عماد الدین ابنِ کثیر (متوفی 774 ہجری)۔ آپ مشہورِ زمانہ تفسیر ابنِ کثیر کے بھی مصنف ہیں۔
یہ تاریخِ اسلام کی سب سے جامع اور مستند ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ حافظ ابنِ کثیر نے واقعات کو احادیث اور مسلمہ روایات کی روشنی میں پرکھ کر جمع کیا ہے۔ علمی حلقوں میں ان کا بیان ہر قسم کے تعصب سے پاک مانا جاتا ہے۔
مصنف: امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (متوفی 310 ہجری)
انہیں تاریخِ اسلام کا امام کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب سانحۂ کربلا کے زمانے کے بہت قریب لکھی گئی تھی، اس لیے اسے کربلا کے تاریخی حقائق کا سب سے بنیادی، قدیم اور مستند ماخذ مانا جاتا ہے۔
مصنف: عز الدین بن الاثیر الجزری (متوفی 630 ہجری)۔
یہ کتاب تاریخِ طبری کا سب سے بہترین اور نچوڑا ہوا خلاصہ ہے۔ علامہ ابنِ اثیر نے تمام روایات کی گہری چھان پھٹک کر کے صرف سب سے زیادہ مربوط اور سچے واقعات کو خوبصورت ادبی عربی میں قلمبند کیا۔
مصنف: امام احمد بن یحییٰ البلاذریؒ (متوفی 279 ہجری)
آپ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے ہم عصر تھے۔ یہ کتاب دنیا کی قدیم ترین تاریخی تصانیف میں شمار ہوتی ہے، جس میں عرب قبائل اور خاندانوں کے انساب اور تاریخی واقعات کو محفوظ کیا گیا ہے۔ تیسری صدی ہجری میں تصنیف ہونے کی وجہ سے اس کتاب کی علمی، تحقیقی اور تاریخی حیثیت نہایت مضبوط اور مسلمہ مانی جاتی ہے۔
اس سیریز کو ان مراجع سے ترتیب دینے کا مقصد یہی تھا کہ تاریخ کا یہ عظیم باب ہر قسم کے مسلکی جھکاؤ سے پاک ہو کر، خالص علمی، فکری اور حقائق پر مبنی اصولوں کے ساتھ آپ تک پہنچے۔ کربلا کسی ایک مسلک کا نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ اثاثہ اور ایمان کا حصہ ہے۔