Epi:05
ٹھیک جس دن کوفہ میں مسلم بن عقیلؑ کا سر قلم کر کے دارالامارہ کی چھت سے نیچے پھینکا گیا، اسی دن امام حسینؑ کعبہ کا امن بچانے کے لیے مکہ چھوڑ رہے تھے۔
راستے میں جب کوفہ کے بدلنے کی خبر آئی، تو امامؑ نے سب کو جانے کی کھلی اجازت دے دی۔ لالچی لوگ چلے گئے، مگر مخلص ساتھیوں نے کہا: حسینؑ! آگے موت ہے تو کیا ہوا، ہم آپ کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
! مستند تاریخ اور ایمان افروز حوالوں کے ساتھ لکھی گئی یہ قسط ابھی پڑھیں اور شیئر کریں