Insight of Quran

The legacy of Ibaraheem A.S

 حق کی تلاش اور اندھی تقلید کا خاتمہ

ابراہیم علیہ السلام کا طویل سفر، جو بابل کی گلیوں سے شروع ہوا تھا، اب مکہ کی مقدس وادی میں اپنی منزل پا چکا تھا۔ وہ تمام امتحانات، جن میں آگ، ہجرت، جدائی اور قربانی شامل تھی، اب ایک عظیم الشان وراثت کی شکل اختیار کر چکے تھے۔

کعبہ کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اور پوری وادی میں توحید کا پرچم لہرا رہا تھا۔ اب ابراہیمؑ کے لیے وقت تھا کہ وہ واپس اپنے دوسرے اہل و عیال (حضرت سارہؑ اور حضرت اسحاقؑ) کے پاس فلسطین تشریف لے جائیں، لیکن مکہ کی وہ بنجر زمین ان کے دل کے سب سے قریب تھی۔

حضرت ابراہیمؑ نے صرف اپنے زمانے کے لیے دعا نہیں مانگی تھی۔ جب وہ مکہ سے رخصت ہو رہے تھے، تو انہوں نے وہ دعائیں مانگیں جو آج ساڑھے چار ہزار سال بعد بھی مکہ کی خوشحالی کا سبب ہیں۔
انہوں نے کہا: اے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس کے رہنے والوں کو ہر طرح کے پھلوں سے رزق عطا فرما۔ (سورہ البقرہ، آیت: 126)
غور کریں: مکہ میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی، کوئی درخت نہیں اگتا، مگر اللہ نے اپنے خلیل کی دعا کی برکت سے وہاں دنیا کا ہر پھل اور ہر نعمت میسر کر دی ہے۔

اللہ تعالیٰ کو اپنے اس بندے کی ادائیں اور وفا اتنی پسند آئی کہ اس نے رہتی دنیا تک ہر مسلمان کے لیے یہ لازم کر دیا کہ وہ اپنی نماز کو مکمل ہی نہیں کر سکتا جب تک وہ محمد ﷺ کے ساتھ ساتھ ابراہیمؑ اور ان کی آل پر درود نہ بھیجے۔
جب ہم نماز میں اللہم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صلیت علی ابراہیم پڑھتے ہیں، تو یہ دراصل اللہ کی طرف سے اپنے اس خلیل کو دیا گیا وہ تمغہ ہے جو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے تقریباً 175 سے 200 سال کی طویل عمر پائی۔ جب ملک الموت (عزرائیلؑ) ان کی روح قبض کرنے آئے، تو ایک بہت ہی لطیف مکالمہ ہوا۔
ابراہیمؑ نے فرمایا:
کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی دوست (خلیل) اپنے دوست کی جان لیتا ہو؟

اللہ نے وحی بھیجی: اے ابراہیم! کیا تم نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی محب اپنے محبوب سے ملنے میں دیر کرنا چاہتا ہو؟

یہ سن کر خلیل اللہ کا دل تڑپ اٹھا اور انہوں نے خوشی خوشی اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔
آپؑ کو فلسطین کے شہر الخلیل (Hebron) میں دفن کیا گیا، جہاں آج بھی ان کا مزار لاکھوں لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کی کہانی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، یہ ایک امت کی کہانی ہے۔
قرآن کہتا ہے: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
بے شک ابراہیم (اکیلے ہی) ایک امت تھے، اللہ کے فرمانبردار، یکسو، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (سورہ النحل، آیت: 120)

ایک امت یعنی اگر ایک امت میں 1000 لوگ ہیں اور ہر ایک شخص میں الگ الگ خوبی ہے تو یہ سب خوبیاں اللہ نے ایک شخص میں رکھ دیں یعنی ابراہیمؑ میں ۔

وہ اکیلا نکلا تھا، کوئی اس کا ساتھی نہ تھا، مگر آج دنیا کے تین بڑے مذاہب (اسلام، عیسائیت، یہودیت) انہیں اپنا جدِ امجد مانتے ہیں۔

قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا

حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو دنیا کے تمام باطل راستوں، غلط نظریات، جھوٹی بیساکھیوں اور معاشرے کی اندھی تقلید سے یکسر کٹ کر، اپنے پورے وجود کے ساتھ صرف اور صرف ایک سچے رب کی طرف جھک جائے۔

گویا حنیف وہ نہیں ہے جو بس سیدھا کھڑا ہے، بلکہ وہ ہے جو باقی ہر طرف سے منہ موڑ کر ایک ہی مرکز پر یکسو (Focus) ہو گیا ہو۔
آج اس دستر خوانِ محبت کی آخری نشست ہے، جہاں ہم نے دس دنوں کے اس روحانی سفر کو سمیٹا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کے واقعات محض قصے نہیں، بلکہ حج کے ہر رکن کی روح ہیں۔

اگر آپ آج مکہ کی گلیوں میں کھڑے ہوں، تو آپ کو پتھروں کی دیواروں کے پیچھے ایک عظیم انسان کی جدوجہد کی خوشبو آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کے مختلف لمحات کو حج کی شکل میں قیامت تک کے لیے منجمد کر دیا ہے۔

: طواف
جب ہم کعبہ کے گرد گھومتے ہیں، تو یہ اس فکری تلاش کی یادگار ہے جو ابراہیمؑ نے ستاروں اور چاند کو دیکھ کر شروع کی تھی۔ یہ اس بات کا اقرار ہے کہ ہماری زندگی کا محور و مرکز صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔

: سعی(صفا و مروہ)
ہاجرہؑ کا وہ تپتی دوپہر میں دوڑنا ہمیں سکھاتا ہے کہ پانی(کامیابی) صرف دعا سے نہیں، بلکہ دوڑنے (کوشش) سے ملتا ہے۔ لیکن جب ہم تھک جاتے ہیں، تو اللہ زمزم جیسا معجزہ وہیں سے نکالتا ہے جہاں ہم نے ایڑیاں رگڑی ہوتی ہیں۔

: منٰی،رمی(کنکریاں مارنا)، اور مزذلفہ
یہ ابراہیمؑ کی اس استقامت کی یاد ہے جب انہوں نے شیطان کے وسوسوں کو ٹھکرایا تھا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اپنے مقصد کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو پتھر مار کر دور کر دو۔
عرفات: یہ اس معرفت (پہچان) کا دن ہے جس کی تلاش میں ابراہیمؑ نے اپنا گھر بار چھوڑا تھا۔

: قربانی
ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو جب ہم جانور ذبح کرتے ہیں، تو اصل میں ہم اللہ سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ: اے اللہ! جس طرح ابراہیمؑ اپنے سب سے پیارے بیٹے کو تیرے حکم پر لٹانے کے لیے تیار ہو گئے تھے، میں بھی اپنی انا، اپنی پسند اور اپنی خواہش کو تیرے حکم کے نیچے ذبح کرنے کے لیے تیار ہوں۔

قربانی کا گوشت یا خون اللہ تک نہیں پہنچتا، بلکہ وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو چھری چلاتے وقت ہمارے دل میں ہوتا ہے۔(سورہ الحج، آیت: 37)

حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی کا نچوڑ ایک لفظ ہے: اسلمتُ (میں نے سر تسلیمِ خم کر دیا)۔

جب اللہ نے ان سے کہا: فرمانبردار ہو جا، تو انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ کیوں؟ یا “آگ میں کیوں جاؤں؟” یا “بیٹے کو کیوں ذبح کروں؟”۔ انہوں نے بس کہا:میں اپنے رب کا فرمانبردار ہو گیا۔(سورہ البقرہ، آیت: 131)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی کا سب سے بڑا سبق کامل سپردگی اور بے لوث بندگی ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ سچا مومن وہ نہیں جو اللہ کے احکامات کو اپنی عقل اور فائدے کی ترازو میں تولے، بلکہ وہ ہے جو “اسلمتُ” (میں نے سر تسلیمِ خم کر دیا) کہہ کر اپنی انا، پسند اور خواہشات کو رب کی رضا کے آگے ذبح کر دے۔

یہ فکری سفر ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اگر ہم حق پر اکیلے بھی رہ جائیں، تو اللہ پر توکل ہمیں تنہا ایک امت بنا دیتا ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ظاہری حالات کی تنگی سے مایوس ہونے کے بجائے اپنے حصے کی دوڑ (سعی) جاری رکھنی چاہیے، کیونکہ جو ذات بنجر ریت سے زمزم ابال سکتی ہے اور تپتی آگ کو گلزار بنا سکتی ہے، وہ ہمارے صبر اور تقویٰ کے بدلے ہماری زندگی کی اندھیری راہوں کو بھی اپنی رحمت سے روشن کر سکتی ہے۔
یہ دس دن گزر جائیں گے، عید بھی گزر جائے گی، لیکن حضرت ابراہیمؑ کی یہ کہانی آپ کے اندر ایک نیا جذبہ پیدا کرنی چاہیے۔

اگر آپ تنہا ہوں، تو یاد کریں کہ ابراہیمؑ بھی اکیلے تھے مگر ایک امت بن گئے۔

اگر آپ آزمائشیں ہوں، تو یاد کریں کہ آگ گلزار بن سکتی ہے۔

اگر آپ مایوس ہوں، تو یاد کریں کہ بنجر زمین سے بھی زمزم ابل سکتا ہے۔

اس عید پر جب آپ قربانی کریں یا دوسروں کو قربانی کرتے دیکھیں، تو ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کر کے اس بوڑھے باپ (ابراہیمؑ) اور سعادت مند بیٹے (اسماعیلؑ) کو سلام پیش کریں، جن کی وفا نے ہمیں یہ خوبصورت دین اور یہ عظیم یادگار عطا کی۔
اللہ تعالیٰ آپ کی اس سیریز کو قبول فرمائے اور آپ کے لیے اسے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔