Insight of Quran

The legacy of Ibaraheem A.S

 حق کی تلاش اور اندھی تقلید کا خاتمہ

اب ہم اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں خلیل اللہ (اللہ کے دوست) کا لقب اپنے کمال کو پہنچنے والا ہے۔ یہ وہ امتحان ہے جسے سن کر آج بھی روح کانپ جاتی ہے، مگر ان باپ بیٹے کے چہروں پر ذرا بھی شکن نہ تھی۔

برسوں بیت گئے۔ اسماعیلؑ اب محض ایک بچے نہیں رہے تھے، بلکہ وہ اپنے باپ کا سہارا اور بڑھاپے کی لاٹھی بن چکے تھے۔ وہ دوڑنے بھاگنے کی عمر کو پہنچے تو ابراہیمؑ مکہ واپس آئے۔ باپ بیٹے کی ملاقات خوشیوں سے بھرپور تھی، مگر اسی رات ابراہیمؑ نے ایک خواب دیکھا۔

ابراہیمؑ نے دیکھا کہ وہ اپنے پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں۔ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ انہوں نے لگاتار تین راتیں یہی خواب دیکھا۔ شیطان نے اسی وقت سے وار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے ابراہیمؑ کے دل میں وسوسہ ڈالنے کی کوشش کی کہ شاید یہ محض ایک خواب ہے لیکن خلیل اللہ کا ایمان پہاڑ سے زیادہ مضبوط تھا۔ وہ سمجھ گئے کہ ان کا رب ان سے ان کی سب سے پیاری چیز کا نذرانہ مانگ رہا ہے۔

ابراہیمؑ نے اسماعیلؑ کو اپنے پاس بلایا۔ وہ چاہتے تو زبردستی لے جاتے، مگر انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی اس عظیم اجر میں شامل کرنا چاہا:
اے میرے پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، اب تو بتا تیری کیا رائے ہے؟
(سورہ الصافات، آیت: 102)
ذرا غور کریں! ایک باپ اپنے جوان بیٹے سے اس کی موت کا مشورہ مانگ رہا ہے۔ اور اسماعیلؑ؟ وہ تو اسی نسلِ ابراہیمؑ کا خون تھے۔ انہوں نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں جھجکا اور وہ تاریخی جملہ کہا:
ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریے، آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
(سورہ الصافات، آیت: 102)
یہ تسلیم و رضا کی وہ انتہا تھی جہاں باپ ذبح کرنے پر راضی تھا اور بیٹا ذبح ہونے پر۔

جب باپ اور بیٹا اللہ کے حکم کی تعمیل کے لیے منیٰ کی طرف روانہ ہوئے، تو شیطان (ابلیس) بدحواس ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ اگر آج یہ دونوں کامیاب ہو گئے تو انسان کبھی اس کے بہکاوے میں نہیں آئے گا۔
وہ پہلے ابراہیمؑ کے پاس آیا: تم اتنے بوڑھے ہو کر اپنے اکلوتے بیٹے کو مارنے جا رہے ہو؟ یہ کیسا خدا ہے؟ابراہیمؑ نے اسے پہچان لیا اور سات کنکریاں مار کر بھگا دیا۔
وہ اسماعیلؑ کے پاس گیا: تمہارا باپ تمہیں ذبح کرنے جا رہا ہے اسماعیلؑ نے فرمایا: اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو میں حاضر ہوں اور اسے بھی کنکریاں ماریں۔
وہ ہاجرہؑ کے پاس گیا: تمہارا شوہر تمہارے بیٹے کو قتل کرنے لے گیا ہے انہوں نے جواب دیا: اگر اللہ کا حکم ہے تو میرا بیٹا ایک بار نہیں ہزار بار قربان۔
یہ وہ مقام ہے جہاں جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنا) کی سنت شروع ہوئی۔ یہ دراصل اپنے اندر کے شیطان اور وسوسوں کو سنگسار کرنے کی علامت ہے۔

منیٰ کی ایک چٹان کے پاس ابراہیمؑ نے اسماعیلؑ کو پیشانی کے بل لٹایا (تاکہ چھری چلاتے وقت باپ کی نظر بیٹے کے چہرے پر نہ پڑے اور ممتا آڑے نہ آئے)۔ اسماعیلؑ نے کہا: ابا! میری آنکھوں پر پٹی باندھ دیں اور اپنے کپڑے سمیٹ لیں تاکہ میرے خون کے چھینٹے آپ پر نہ پڑیں اور میری ماں انہیں دیکھ کر دکھی نہ ہو۔
ابراہیمؑ نے چھری تیز کی اور پوری قوت سے بیٹے کی گردن پر چلا دی۔

اللہ کا حکم ہوا: چھری نے اپنا اثر کھو دیا۔ اسی وقت ندا آئی:
اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔(سورہ الصافات، آیت104,105,107)

ابراہیمؑ نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ اسماعیلؑ زندہ سلامت برابر میں کھڑے مسکرا رہے ہیں اور ان کی جگہ جنت سے لایا گیا ایک مینڈھا (قربانی کا جانور) ذبح ہو چکا ہے۔

قربانی کا وہ عظیم امتحان ختم ہوا تو آسمان سے مبارکباد کی صدائیں گونجیں۔ ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ اس آزمائش میں سرخرو ہو چکے تھے، مگر اب باری تھی اس کام کی جس کے لیے اس بنجر وادی کو چنا گیا تھا۔
خانہ کعبہ کی تعمیر اور وہ مقدس قدم
ابراہیمؑ اب کافی بوڑھے ہو چکے تھے اور اسماعیلؑ جوانی کی بھرپور توانائی کے ساتھ اپنے باپ کے شانہ بشانہ تھے۔ ایک دن اللہ کا حکم آیا: اے ابراہیم! میرے لیے ایک گھر تعمیر کرو جو زمین پر میری توحید کا مرکز ہو۔
ابراہیمؑ نے وہ جگہ متعین کی جہاں آج کعبہ موجود ہے (جو کہ زمین کا مرکز مانا جاتا ہے)۔ باپ اور بیٹے نے مل کر پتھر ڈھونا شروع کیے۔
مقامِ ابراہیم: وہ پتھر جو موم بن گیا
تعمیر کے دوران جب کعبہ کی دیواریں بلند ہو گئیں اور ابراہیمؑ کا ہاتھ اوپر تک نہیں پہنچ رہا تھا، تو وہ ایک پتھر پر کھڑے ہو گئے۔
یہ کوئی عام پتھر نہیں تھا۔ جیسے جیسے دیوار اونچی ہوتی، وہ پتھر ابراہیمؑ کو لے کر خود بخود اوپر اٹھ جاتا۔ اور معجزہ دیکھیے! اس سخت پتھر نے اپنے محبوب پیغمبر کے قدموں کے لمس کو محسوس کیا اور وہ موم کی طرح نرم ہو گیا، یہاں تک کہ ابراہیمؑ کے قدموں کے نشان اس میں نقش ہو گئے۔
یہ وہی پتھر ہے جسے آج ہم مقامِ ابراہیم کہتے ہیں اور جس کے پاس نماز پڑھنا ہر حاجی کے لیے سعادت ہے۔
کعبہ کی دیواریں مکمل ہونے کو تھیں، بس ایک کونے کی جگہ خالی تھی۔ ابراہیمؑ نے اسماعیلؑ سے کہا: بیٹے! کوئی خاص پتھر لاؤ جو اس کونے کی پہچان بن جائے۔ اسماعیلؑ پتھر کی تلاش میں نکلے ہی تھے کہ جبرائیلؑ جنت سے ایک سفید چمکتا ہوا پتھر لے کر حاضر ہو گئے۔
روایات میں آتا ہے کہ حجرِ اسود شروع میں دودھ سے زیادہ سفید تھا، مگر انسانوں کے گناہوں کے چھونے سے یہ سیاہ ہو گیا۔ ابراہیمؑ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے نصب کیا، اور آج ہر طواف کرنے والا اسی پتھر کا بوسہ دے کر اپنے عہد کی تجدید کرتا ہے۔

تصور کریں! اللہ کے پیارےنبی اور ان کا برگزیدہ بیٹا، کائنات کی سب سے مقدس عمارت بنا رہے ہیں۔ جب کام مکمل ہوا تو انہوں نے تکبر نہیں کیا، بلکہ عاجزی سے ہاتھ اٹھا لیے:
اے ہمارے رب! ہم سے یہ (خدمت) قبول فرما، بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔(سورہ البقرہ, آیت: 127)

اسی وقت ابراہیمؑ نے ایک ایسی دعا مانگی جو ہزاروں سال بعد قبول ہونی تھی: اے اللہ! اس شہر میں انہی میں سے ایک ایسا رسول بھیج جو تیری آیات پڑھ کر سنائے اور ان کا تزکیہ کرے۔
نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:میں اپنے باپ ابراہیمؑ کی دعا کا نتیجہ ہوں۔

کعبہ تیار تھا، اب باری تھی اسے آباد کرنے کی۔ اللہ نے فرمایا: اے ابراہیم! لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔(سورہ الحج، آیت: 27)
ابراہیمؑ نے عرض کیا: یا باری تعالیٰ! میری آواز اس ویران وادی سے باہر کون سنے گا؟
اللہ نے فرمایا: پکارنا تمہارا کام ہے، پہنچانا میرا کام ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ ابراہیمؑ نے ایک پہاڑی پر کھڑے ہو کر پکارا: اے لوگو! تمہارے رب نے تمہارے لیے ایک گھر بنایا ہے، پس اس کا حج کرو۔اللہ نے اس آواز کو زمانوں کی سرحدوں سے پار کر دیا، یہاں تک کہ ارواح کے عالم میں جس جس نے اس پکار پر لبیک (میں حاضر ہوں) کہا، وہ آج بھی کعبہ کا طواف کرنے مکہ پہنچتا ہے۔


ان دونوں واقعات سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ
زندگی میں اللہ کی اطاعت کا معیار بے غرض اور کامل ہونا چاہیے اور بڑی سے بڑی کامیابی یا نیکی کے بعد بھی انسان کو تکبر کے بجائے عاجزی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ حضرت ابراہیمؑ اور اسماعیلؑ نے اپنی سب سے پیاری چیز کی قربانی پیش کرتے ہوئے اور کائنات کی سب سے عظیم عمارت (کعبہ) بناتے ہوئے بھی “میں” یا “تکبر” کو اپنے قریب نہیں آنے دیا، بلکہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا کہہ کر عاجزی کی انتہا کر دی، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں جو بھی اچھائی یا محنت کریں، اس پر اترانے کے بجائے اللہ کے حضور قبولیت کی دعا مانگیں۔ مزید برآں، شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ اپنے مقصد کی راہ میں آنے والے ہر اندرونی وسوسے، منفی سوچ اور رکاوٹ کو پورے عزم کے ساتھ اپنی زندگی سے نکال باہر پھینکنا ہی اصل کامیابی ہے۔

ابراہیم علیہ السلام کی یہ داستانِ محبت اب اپنے آخری اور الوداعی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ان کی چھوڑی ہوئی وراثت اور درودِ ابراہیمی کا راز کھلنے والا ہے۔
اگلی قسط میں ہم پڑھیں گے کہ
ابراہیمؑ کی زندگی کا سورج غروب ہونے کو ہے، مگر ان کی وراثت (Legacy) قیامت تک کے لیے محفوظ ہو چکی ہے۔ وہ آخری لمحات کیسے تھے؟ اور کیوں ہم ہر نماز کے درودِ ابراہیمی میں ان کا نام لیتے ہیں؟