حق کی تلاش اور اندھی تقلید کا خاتمہ

پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ ایک طویل انتظار کے بعد اللہ نے ابراہیمؑ کی گود ہری کی، لیکن محبت کا یہ امتحان ابھی باقی تھا کہ کیا ابراہیمؑ کو اپنے بیٹے سے زیادہ پیار ہے یا اپنے رب سے؟
حضرت ابراہیمؑ، بی بی ہاجرہؑ اور شیر خوار اسماعیلؑ کو لے کر اس وادی میں پہنچے جسے آج ہم مکہ کہتے ہیں۔ اس وقت وہاں نہ کعبہ کی عمارت تھی، نہ کوئی آبادی، نہ سایہ اور نہ ہی پانی کا ایک قطرہ۔ صرف سیاہ پہاڑ اور تپتی ریت تھی۔
ابراہیمؑ نے اپنی اہلیہ اور بچے کو وہاں بٹھایا، تھوڑی سی کھجوریں اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھا اور خاموشی سے پلٹ گئے۔ وہ مڑ کر دیکھنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ باپ کی ممتا پکار اٹھی تھی۔ ہاجرہؑ ان کے پیچھے دوڑیں اور پوچھا:
اے ابراہیم! آپ ہمیں اس بیابان میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟
ابراہیمؑ خاموش رہے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا، پھر بھی خاموشی۔
جب ہاجرہؑ نے دیکھا کہ ابراہیمؑ اپنی مرضی سے نہیں جا رہے، تو انہوں نے وہ جملہ کہا جو رہتی دنیا تک ایمان کی بنیاد بن گیا:کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟
ابراہیمؑ نے صرف ایک لفظ کہا: ہاں۔
ہاجرہؑ کا جواب سنیے: انہوں نے کہا پھر جائیے، اللہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔
مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا، کھجوریں ختم ہو گئیں۔
دھوپ کی شدت سے ننھے اسماعیلؑ کی زبان پیاس سے خشک ہو گئی۔
بچہ جب پیاس سے تڑپنے لگا تو ماں کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ پانی کی تلاش میں قریبی پہاڑی صفا پر چڑھ گئیں، دور دور تک دیکھا مگر کچھ نہ ملا۔ پھر وہ وادی میں دوڑیں اور دوسری پہاڑی مروہ پر چڑھیں۔
انہوں نے یہ چکر سات بار لگائے۔ جب وہ وادی کے نشیبی حصے میں آتیں جہاں سے بچہ نظر نہیں آتا تھا، تو وہ دوڑنے لگتیں تاکہ جلدی سے بچے کو دیکھ سکیں۔ اللہ کو ایک ماں کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ اسے حج کا لازمی رکن بنا دیا (سعی)۔ آج کروڑوں حاجی اسی جگہ دوڑتے ہیں جہاں ایک تنہا ماں اپنے بچے کے لیے تڑپی تھی۔
إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا…
بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں (شعائر) میں سے ہیں، لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے، اس کے لیے ان دونوں کے درمیان چکر لگانے (سعی کرنے) میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (سورہ البقرہ، آیت: 158)
جب ہاجرہؑ ساتویں چکر کے بعد تھک کر مروہ پر بیٹھیں، تو انہوں نے ایک آواز سنی۔ انہوں نے دیکھا کہ ننھے اسماعیلؑ کے قدموں کے پاس ایک فرشتہ (جبرائیلؑ) موجود ہے۔ فرشتے نے زمین پر اپنا پر (یا ایڑی) ماری اور وہاں سے پانی کا ایک چشمہ ابل پڑا۔
ہاجرہؑ نے جب پانی کو تیزی سے بہتے دیکھا تو مٹی کی منڈیر بناتے ہوئے کہا: زم زم (ٹھہر جا، رک جا)۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ امِ اسماعیل پر رحم فرمائے، اگر وہ پانی کو نہ روکتیں تو زمزم آج ایک بہتا ہوا دریا ہوتا۔
پرندوں نے وہاں منڈلانا شروع کیا۔ قریب سے گزرنے والے قبیلے بنو جرہم نے دیکھا کہ اس ویران وادی میں پرندے اڑ رہے ہیں، یقیناً وہاں پانی ہے۔ وہ وہاں آئے، ہاجرہؑ سے اجازت لی اور وہیں بس گئے۔
یوں وہ جگہ جو کل تک موت کا منظر پیش کر رہی تھی، اللہ کے حکم سے ایک بین الاقوامی شہر کی بنیاد بن گئی۔ ابراہیمؑ کی وہ دعا قبول ہو گئی جو انہوں نے پلٹتے ہوئے مانگی تھی: اے رب! میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے… تاکہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہو جائیں۔
فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ
پس تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔(سورہ ابراہیم، آیت: 37)
توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں، بلکہ اپنی پوری کوشش کر کے نتیجے کو اللہ پر چھوڑ دینا ہے۔ ہاجرہؑ کا اللہ پر یقین اتنا کامل تھا کہ انہوں نے کہا “اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا”، لیکن وہ پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان سات بار دوڑیں، جو یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کی مشکلات میں اسباب اختیار کرنے اور محنت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ جب انسان اپنے حصے کی بھرپور جدوجہد (سعی) کر لیتا ہے، تو اللہ وہاں سے راستے اور زمزمنکالتا ہے جہاں مادی طور پر امید کا ایک قطرہ بھی موجود نہیں ہوتا؛ اللہ ہماری محنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا بلکہ اسے رہتی دنیا کے لیے رحمت اور برکت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
اگلی قسط میں ہم پڑھیں گے :
اسماعیلؑ اب جوان ہو چکے ہیں۔ باپ اور بیٹے کی ملاقات ہوتی ہے، لیکن خوشیوں کے اس لمحے میں ایک خواب آتا ہے۔ وہ خواب جس نے پوری کائنات کو لرزا دیا: بیٹے کی قربانی۔ شیطان کہاں سے آیا اور ابراہیمؑ نے اسے پتھر کیوں مارے؟