Insight of Quran

The legacy of Ibaraheem A.S

ٹوٹتے بت، جاگتے ضمیر

ابراہیمؑ اب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔ ان کا دل اس پختہ یقین سے بھر گیا تھا کہ یہ پتھر کے بے جان بت، جو نہ سن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں، کسی انسان کے دکھ درد کا مداوا نہیں کر سکتے۔ مگر ایک بہت بڑی آزمائش ان کے سامنے تھی—ان کا اپنا گھر ہی شرک کا مرکز تھا۔

حضرت ابراہیمؑ کے والد یا چچا (روایات میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے) آذر نہ صرف ایک بت پرست تھا بلکہ شاہی دربار کا خاص فرد اور ماہر بت تراش بھی تھا۔ ذرا تصور کریں اس نوجوان کے دل کی کیفیت، جس کا قریبی عزیز اپنے ہی ہاتھوں سے معبود گھڑتا ہو۔

ابراہیمؑ نے نہایت محبت اور نرمی کے ساتھ اپنے باپ/چچا سے کہا:
اے میرے پیارے ابا! آپ اس کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے اور نہ آپ کے کسی کام آ سکتا ہے؟
(سورۃ مریم: 42)

یہاں ابراہیمؑ نے ایک بیٹے کے طور پر نہیں بلکہ ایک خیر خواہ کے طور پر بات کی۔ انہوں نے سخت الفاظ استعمال نہیں کیے بلکہ بڑی حکمت سے فرمایا کہ میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں۔

: مگر آذر کا جواب سخت اور تکلیف دہ تھا
اے ابراہیم! اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ میری نظروں سے دور ہو جا!

سوچیں، ایک نوجوان کے لیے اپنے باپ سے ایسے الفاظ سننا کتنا اذیت ناک ہوگا۔ لیکن ابراہیمؑ نے صبر اور اخلاق کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے فرمایا
“سلامٌ علیک! آپ پر سلامتی ہو۔ میں اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت کی دعا کروں گا۔”
(سورۃ مریم: 46-47)

ایک دن بابل میں سالانہ میلہ لگا۔ پورا شہر، بادشاہ سمیت، جشن منانے کے لیے شہر سے باہر چلا گیا۔ ابراہیمؑ کو بھی ساتھ چلنے کو کہا گیا، مگر انہوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
“میں بیمار ہوں”
(یعنی میرا دل تمہارے شرک سے بیزار ہے)

جب شہر خالی ہو گیا، تو ابراہیمؑ ایک کلہاڑا اٹھا کر بت خانے میں داخل ہوئے۔ وہاں مختلف قسم کے کھانے بتوں کے سامنے رکھے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا
“تم کھاتے کیوں نہیں؟ تمہیں کیا ہوا ہے، بولتے کیوں نہیں؟”

پھر انہوں نے کلہاڑا اٹھایا اور ایک ایک کر کے تمام بتوں کو توڑ دیا، صرف سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا اور کلہاڑا اس کے کندھے پر لٹکا دیا۔
(سورۃ الانبیاء: 58)

یہ محض غصے کا اظہار نہیں تھا، بلکہ ایک گہری حکمت اور منطقی حکمتِ عملی تھی۔ ابراہیمؑ چاہتے تھے کہ جب لوگ واپس آئیں تو اپنی آنکھوں سے اپنے معبودوں کی بے بسی دیکھیں، اور ان کے دلوں پر جمی ہوئی جہالت کی گرد ہٹ جائے۔

: جب لوگ واپس آئے اور یہ منظر دیکھا تو چیخ اٹھے
“ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ کس نے کیا؟”
: کسی نے کہا
“ایک نوجوان ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے، وہ ان کا ذکر (برائی سے) کرتا تھا۔”

درحقیقت “بت” صرف وہ نہیں ہوتے جو پتھر کے بنے ہوں، بلکہ وہ رسم و رواج، خاندانی ضد اور انا بھی بت بن جاتے ہیں جو انسان کو حق قبول کرنے سے روکتے ہیں۔

ابراہیمؑ نے اصلاح کا آغاز اپنے گھر سے کیا، کیونکہ جو شخص اپنے گھر میں سچ نہیں بول سکتا، وہ دنیا کو سچائی کا راستہ نہیں دکھا سکتا۔

: ہم سب کے لیے اس واقعے میں بہت بڑی نصیحت ہے

اگر کسی بڑے کی بات سے اختلاف ہو تو غصہ نہیں بلکہ نرمی اور حکمت سے بات کریں۔

اپنے دل میں جھانکیں کہ کہیں ہم بھی کسی غلط رسم یا عادت کو صرف لوگوں کے ڈر سے تو نہیں اپنائے ہوئے۔

اور جس طرح ابراہیمؑ نے اپنے والد کے لیے دعا کی، ہمیں بھی ان لوگوں کے لیے دعا کرنی چاہیے جو ابھی سچائی کو نہیں پہچان سکے۔

ہمیں صرف معاشرے کی برائیوں پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ایسے طریقے اختیار کرنے چاہئیں کہ لوگ خود اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہو کر سچائی کو قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں۔