Epi:10
حکمت، دور اندیشی اور عارضی پیچھے ہٹنا
ہر پیچھے ہٹنا شکست نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی وہی قدم، جسے لوگ کمزوری سمجھ رہے ہوتے ہیں، آنے والی سب سے بڑی فتح کا راستہ کھول رہا ہوتا ہے۔
حدیبیہ کے مقام پر جذبات جنگ کی طرف لے جا سکتے تھے، مگر نبی کریم ﷺ نے فوری جیت کے بجائے طویل المدتی مقصد، انا کے بجائے حکمت اور ردِعمل کے بجائے بصیرت کو ترجیح دی۔
صلح کی شرائط بظاہر سخت تھیں، مگر اسی امن نے دعوت کے لیے وہ راستے کھولے جنہیں جنگ نہیں کھول سکتی تھی۔ اسی لیے قرآن نے اسے فَتْحًا مُّبِينًا — کھلی فتح قرار دیا۔
: صلحِ حدیبیہ ہمیں سکھاتی ہے
ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں، ہر جواب فوراً دینا ضروری نہیں، اور ہر وقتی نقصان حقیقی نقصان نہیں ہوتا۔










