اس سیریز کو تیار کرتے وقت ہماری سب سے پہلی ترجیح یہ تھی کہ سانحہ کربلا جیسے عظیم واقعے کو کسی بھی مخصوص مسلکی سوچ، نظریات یا اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ امتِ مسلمہ کو جوڑنے اور تاریخ کا سچا رخ سامنے لانے کے لیے، ہم نے تاریخِ اسلام کی ان بہترین، قدیم اور معتبر ترین کتابوں کا انتخاب کیا ہے جن کی علمی حیثیت پر پوری اسلامی دنیا کا اتفاق ہے
مصنف: علامہ حافظ عماد الدین ابنِ کثیر (متوفی 774 ہجری)۔ آپ مشہورِ زمانہ تفسیر ابنِ کثیر کے بھی مصنف ہیں۔
یہ تاریخِ اسلام کی سب سے جامع اور مستند ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ حافظ ابنِ کثیر نے واقعات کو احادیث اور مسلمہ روایات کی روشنی میں پرکھ کر جمع کیا ہے۔ علمی حلقوں میں ان کا بیان ہر قسم کے تعصب سے پاک مانا جاتا ہے۔
مصنف: امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (متوفی 310 ہجری)
انہیں تاریخِ اسلام کا امام کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب سانحۂ کربلا کے زمانے کے بہت قریب لکھی گئی تھی، اس لیے اسے کربلا کے تاریخی حقائق کا سب سے بنیادی، قدیم اور مستند ماخذ مانا جاتا ہے۔
مصنف: عز الدین بن الاثیر الجزری (متوفی 630 ہجری)۔
یہ کتاب تاریخِ طبری کا سب سے بہترین اور نچوڑا ہوا خلاصہ ہے۔ علامہ ابنِ اثیر نے تمام روایات کی گہری چھان پھٹک کر کے صرف سب سے زیادہ مربوط اور سچے واقعات کو خوبصورت ادبی عربی میں قلمبند کیا۔
مصنف: امام احمد بن یحییٰ البلاذریؒ (متوفی 279 ہجری)
آپ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کے ہم عصر تھے۔ یہ کتاب دنیا کی قدیم ترین تاریخی تصانیف میں شمار ہوتی ہے، جس میں عرب قبائل اور خاندانوں کے انساب اور تاریخی واقعات کو محفوظ کیا گیا ہے۔ تیسری صدی ہجری میں تصنیف ہونے کی وجہ سے اس کتاب کی علمی، تحقیقی اور تاریخی حیثیت نہایت مضبوط اور مسلمہ مانی جاتی ہے۔
اس سیریز کو ان مراجع سے ترتیب دینے کا مقصد یہی تھا کہ تاریخ کا یہ عظیم باب ہر قسم کے مسلکی جھکاؤ سے پاک ہو کر، خالص علمی، فکری اور حقائق پر مبنی اصولوں کے ساتھ آپ تک پہنچے۔ کربلا کسی ایک مسلک کا نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مشترکہ اثاثہ اور ایمان کا حصہ ہے۔