Epi 4
دن کا شور، افطار کی رونقیں، اور زندگی کی بھاگ دوڑ ان سب کے بیچ میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب پوری کائنات تھم جاتی ہے،وہ وقت ہے رات کا آخری پہر۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ رمضان میں راتوں کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟ تراویح، قیام اللیل، اور پھر تہجد۔
سچ تو یہ ہے کہ دن کا روزہ اگر جسم کو صاف کرتا ہے تو رات کا قیام روح کو روشن کرتا ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر طرف شور ہے۔ سوشل میڈیا کا شور، خواہشات کا شور، دوسروں کی توقعات کا شور۔ اس شور میں ہم اکثر اپنی ہی آوازاور اپنے رب کی پکار سننا بھول جاتے ہیں۔
رمضان کی راتیں ہمیں خاموشی کا تحفہ دیتی ہیں۔ تقویٰ تب تک جڑ نہیں پکڑ سکتا جب تک انسان اپنے رب کے سامنے تنہائی میں کھڑا ہونا نہ سیکھ لے۔
جب آپ مصلے پر کھڑے ہوتے ہیں ارد گرد سب سو رہے ہوتے ہیں اور آپ اپنے مالک کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ لمحہ آپ کی پوری زندگی کے تمام دنوں پر بھاری ہوتا ہے۔ وہاں کوئی دکھاوا نہیں ہوتا کوئی نجک ہونےے کا لبادہ نہیں ہوتا۔ وہاں صرف آپ ہوتے ہیں اور آپ کا خالق۔
لوگ کہتے ہیں کہ رونا کمزوری کی نشانی ہے۔ لیکن تقویٰ کے سفر میں اللہ کے سامنے رونا دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
وہ ایک آنسو جو ندامت (پچھتاوے) کی وجہ سے گال پر پھسل جائے وہ گناہوں کی لگی ہوئی آگ کو بجھانے کے لیے کافی ہے۔ اللہ کو اپنے بندے کا ٹوٹنا اور پھر اس ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرنا بہت پسند ہے۔
یاد رکھیں جو شخص رات کو اللہ کے سامنے رونا سیکھ جاتا ہے اسے دن کے اجالے میں کسی انسان کے سامنے رونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اللہ اس کی شخصیت میں وہ وقار اور وہ تقویٰ بھر دیتا ہے کہ دنیا اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
ہم اکثر دعا کو ایک فہرست (List) سمجھ لیتے ہیں “یا اللہ یہ دے دے، وہ دے دے۔”
اس رمضان، دعا کو بات چیت بنائیں۔
اللہ سے باتیں کریں! اسے بتائیں کہ آپ تھک گئے ہیں، اسے بتائیں کہ آپ بدلنا چاہتے ہیں، اسے بتائیں کہ آپ کو اس کی کتنی ضرورت ہے۔ وہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے وہ تو آپ کے دل کے ان دھڑکوں کو بھی سنتا ہے جو لفظ نہیں بن پاتے۔
تقویٰ کا ایک بڑا حصہ یہ ہے کہ ہم اللہ سے اتنا تعلق بنا لیں کہ ہمیں اس سے مانگتے ہوئے شرم نہ آئے اور اس کے سامنے جھکتے ہوئے بوجھ محسوس نہ ہو۔
رات میں (یا سحری کے وقت) صرف 5 منٹ کے لیے اکیلے بیٹھیں، لائٹ بند کر دیں اور اپنے رب سے باتیں کریں۔ کوئی رٹا رٹایا وظیفہ نہیں بلکہ اپنے دل کی بات اپنی زبان میں کریں۔ اگر آنکھ سے ایک آنسو بھی نکل آئے تو سمجھ لیں کہ آپ کی روح کی بنجر زمین پر تقویٰ کی بارش شروع ہو گئی ہے۔