Epi 3
تقویٰ ہماری زندگی کا سیلف ڈیفنس سسٹم
ہم سب کی زندگی میں کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جب ہم اکیلے ہوتے ہیں۔ کمرہ بند ہوتا ہے، ہاتھ میں اسمارٹ فون ہوتا ہے اور انٹرنیٹ پر ہر اچھی اور بری چیز تک رسائی صرف ایک کلک کی دوری پر ہوتی ہے۔
اس وقت جب کوئی انسان ہمیں نہیں دیکھ رہا ہوتا جب کوئی کیمرہ ہمیں ریکارڈ نہیں کر رہا ہوتا وہ کیا چیز ہے جو ہمیں روکتی ہے؟ وہ کیا احساس ہے جو ہمارے دل میں ایک بے چینی پیدا کرتا ہے کہ نہیں یہ غلط ہے؟
اسی احساس کا نام تقویٰ ہے۔
آج کی دنیا میں ہم نے اپنے گھروں، فونز اور بینک اکاؤنٹس کے لیے مہنگے مہنگے سیکیورٹی سسٹم اور پاس ورڈز رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے اپنی روح کی حفاظت کے لیے کوئی سسٹم لگایا ہے؟
تقویٰ دراصل مومن کا “سائبر سیکیورٹی سسٹم” ہے۔
یہ وہ قوت ہے جو آپ کو اندر سے اتنا مضبوط بنا دیتی ہے کہ باہر کا گناہ کتنا ہی پرکشش کیوں نہ ہو آپ کی روح اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ یہ اللہ کا خوف نہیں، یہ اللہ کی محبت کا پاس ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ اپنے کسی بہت پیارے انسان کے سامنے کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس سے اسے تکلیف ہو یا وہ آپ سے ناراض ہو جائے۔
آج ہم سب ذہنی سکون (Peace of Mind) کی تلاش میں ہیں۔ ہم پریشان ہیں، ڈپریشن میں ہیں، بے چین ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری بے چینی کی ایک بڑی وجہ کیا ہے؟
ہمارا ظاہر اور باطن الگ الگ ہو چکا ہے۔ لوگوں کے سامنے ہم بہت اچھے بنتے ہیں لیکن تنہائی میں ہم وہ نہیں ہوتے۔ یہ تضاد (Conflict) ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
تقویٰ ہمیں توازن دیتا ہے۔ جب آپ کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اللہ میرے ساتھ ہے تو آپ کی تنہائی پاکیزہ ہو جاتی ہے۔ اور جس کی تنہائی پاکیزہ ہو جائے اللہ اسے وہ سکون عطا کرتا ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیں خرید سکتی۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ متقی ہونا شاید بہت بورنگ یا مشکل زندگی گزارنا ہےلیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
تقویٰ آپ کو آزاد کر دیتا ہے۔
آپ لوگوں کی تنقید کے خوف سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
آپ دوسروں کو متاثر کرنے کی دوڑ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
آپ گناہوں کی غلامی سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
تقویٰ والا انسان ذہنی طور پر طاقتور ہوتا ہے کیونکہ اس کا کنٹرول اس کے اپنے نفس پر ہوتا ہے اس کا نفس اس کا غلام ہوتا ہے وہ اپنے نفس کا غلام نہیں ہوتا۔
رمضان کا ہر روزہ ہمیں یہی پریکٹس کروا رہا ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے اس ٹریننگ کو صرف افطار تک محدود نہ رکھیں۔
جب آپ تنہا ہوں اور آپ کا دل کسی بھی برائی کی طرف مائل ہو (چاہے وہ فون پر کسی کی غیبت سننا ہو، یا کوئی غلط چیز دیکھنا ہو) تو صرف 3 سیکنڈ کے لیے آنکھیں بند کریں اور سوچیں
میرا رب میرے پاس ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے کیا میں اسے ناراض کرنا چاہتا ہوں؟
اپنے اندرونی الارم کو ایکٹیویٹ کریں۔ یہی آپ کی کامیابی ہے۔