Insight of Quran

The legacy of Ibaraheem A.S

زوج اور اولاد کی نعمت

حضرت ابراہیمؑ اپنی اہلیہ حضرت سارہؑ کے ساتھ فلسطین اور پھر وہاں سے مصر پہنچے۔ اس وقت مصر کا بادشاہ ایک ظالم اور بدکردار شخص تھا، جس کی عادت تھی کہ وہ خوبصورت عورتوں کو زبردستی اپنے دربار میں بلوا لیتا تھا۔

جب بادشاہ کے سپاہیوں نے حضرت سارہؑ کو دیکھا تو اسے خبر کر دی۔ ابراہیمؑ کو دربار میں بلایا گیا۔ بادشاہ نے بدنیتی سے حضرت سارہؑ کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اللہ اپنے دوست (خلیل) کی عزت کی حفاظت خود کرتا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ جیسے ہی اس جابر نے ہاتھ بڑھایا، اس کا ہاتھ وہیں شلو ہو کر رہ گیا اور وہ سانس لینے کے لیے تڑپنے لگا۔ اس نے فوراً معافی مانگی اور دعا کی درخواست کی۔ حضرت سارہؑ نے دعا کی، وہ ٹھیک ہو گیا، مگر اس نے دوبارہ وہی کوشش کی۔ تین بار ایسا ہی ہوا، یہاں تک کہ وہ دہشت زدہ ہو گیا اور چیخ اٹھا: تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں بلکہ کسی جن یا فرشتے کو لے آئے ہو۔

عفت و پاکدامنی اور اللہ پر کامل توکل وہ ڈھال ہیں جو انسان کو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے بھی محفوظ رکھتی ہیں۔

`حضرت سارہؑ کا واقعہ سکھاتا ہے کہ جب انسان کا کردار صاف ہو اور وہ اللہ کی پناہ مانگ لے تو ظالم کے ہاتھ خود بخود رک جاتے ہیں۔`

اس واقعے سے متاثر ہو کر اور خوفزدہ ہو کر اس بادشاہ نے نہ صرف انہیں عزت کے ساتھ رخصت کیا، بلکہ اپنی بیٹی (یا شاہی خاندان کی ایک معزز خاتون) حضرت ہاجرہؑ کو حضرت سارہؑ کی خدمت کے لیے تحفے میں پیش کیا۔
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ حضرت ہاجرہؑ محض ایک خادمہ تھیں، لیکن مستند روایات اور تاریخی پس منظر کے مطابق وہ ایک شاہی پس منظر رکھتی تھیں جنہیں اللہ نے ابراہیمؑ کے گھرانے کی عظمت بڑھانے کے لیے منتخب کیا تھا۔

ابراہیمؑ بوڑھے ہو چکے تھے، سر کے بال سفید تھے، لیکن ان کے گھر میں کوئی اولاد نہ تھی۔ حضرت سارہؑ نے اپنی بے لوث محبت کا ثبوت دیتے ہوئے خود ابراہیمؑ کو مشورہ دیا کہ وہ حضرت ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں، تاکہ اللہ انہیں اولاد عطا فرمائے۔
حضرت ابراہیمؑ نے تنہائی اور بڑھاپے میں اللہ سے صالح اولاد کی دعا کی تھی جس کا ذکر سورہ الصافات میں ہے:
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ ﴿۱۰۰﴾ فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ ﴿۱۰۱﴾
اے میرے رب! مجھے ایک صالح بیٹا عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے (اسماعیلؑ) کی خوشخبری دی۔ (سورہ الصافات، آیات: 100-101)

اور پھر وہ معجزہ ہوا جس کا انتظار دہائیوں سے تھا! اللہ نے بڑھاپے میں ابراہیمؑ کو ایک حلیم (بردبار) بیٹے کی خوشخبری سنائی۔ حضرت اسماعیلؑ کی ولادت نے اس گھرانے میں خوشیوں کے چراغ روشن کر دیے، لیکن یہی وہ موڑ تھا جہاں ایک اور بڑا امتحان ابراہیمؑ کا منتظر تھا۔
بڑھاپے میں اولاد کی نعمت ملنا اور پھر اللہ کے حکم پر اسے صحرا میں چھوڑ دینا ہمیں “رضائے الٰہی” کا سبق دیتا ہے

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی میں بعض اوقات ہمیں ایسی چیزوں یا رشتوں کی قربانی دینی پڑتی ہے جو ہمیں سب سے عزیز ہوں، لیکن اگر وہ قربانی اللہ کے حکم پر ہو تو وہی بنجر زمین (مکہ) رہتی دنیا تک برکت اور فیض کا مرکز بن جاتی ہے۔ اللہ کی حکمت ہماری ظاہری پریشانی سے بہت بڑی ہوتی ہے۔

ابھی اسماعیلؑ شیر خوار ہی تھے کہ اللہ کا حکم آیا: اپنی اس زوجہ اور بچے کو مکہ کی اس بنجر وادی میں چھوڑ آؤ جہاں نہ پانی ہے، نہ سبزہ، نہ انسان۔
تصور کریں! ایک بوڑھا باپ، جس نے عمر بھر دعا کے بعد بیٹا پایا ہو، اسے ایک ایسے صحرا میں چھوڑنے جا رہا ہے جہاں زندگی کا نام و نشان نہیں۔ لیکن ابراہیمؑ کا خلیل ہونا یہی تو تھا کہ جب رب کا حکم آ جائے تو “کیوں” اور “کیسے” کے سوال ختم ہو جاتے ہیں۔