آگ بنی گلزار، زنجیریں بنیں راکھ

جب قوم نے اپنے دیوتاؤں کو زمین پر بکھرا ہوا پایا تو ان کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ سب جانتے تھے کہ یہ کام کس کا ہے، کیونکہ ابراہیمؑ نے کبھی اپنے نظریات کو چھپایا نہیں تھا۔
ابراہیمؑ کو دربار میں لایا گیا۔ ہجوم کے سامنے سوال ہوا:
“اے ابراہیم! کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے؟”
انہوں نے اپنی طرف اشارہ کرنے کے بجائے بڑے بت کی طرف اشارہ کیا، جس کے کندھے پر کلہاڑا لٹک رہا تھا، اور فرمایا
“بلکہ یہ کام تو ان کے اس بڑے نے کیا ہے، ذرا ان سے پوچھ لو اگر یہ بول سکتے ہوں۔”
(سورہ الانبیاء: 63)
ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ ان کے ضمیر نے گواہی دی: “تم خود جانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔
یہ ابراہیمؑ کی پہلی فکری فتح تھی۔
پھر نمرود میدان میں آیا۔ اس نے کہا: “تمہارا رب کون ہے؟”
ابراہیمؑ نے فرمایا: “میرا رب وہ ہے جو زندگی اور موت دیتا ہے۔
نمرود نے دو قیدی منگوائے—ایک کو قتل کر دیا، دوسرے کو چھوڑ دیا، اور کہا: “میں بھی زندگی اور موت دیتا ہوں۔”
ابراہیمؑ نے فوراً وہ دلیل دی جس کا کوئی جواب نہ تھا
“میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تم اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔”
(سورہ البقرہ: 258)
قرآن کہتا ہے: فَبُهِتَ الَّذِی كَفَرَ — وہ لاجواب رہ گیا۔
جب دلیل ختم ہو جاتی ہے تو ظلم شروع ہوتا ہے۔ نمرود نے حکم دیا:
“اسے جلا ڈالو!”
ایک عظیم آگ جلائی گئی۔ اتنی شدید کہ پرندے اوپر سے گزرتے ہوئے جل جاتے۔ ابراہیمؑ کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینکنے کا فیصلہ ہوا۔
اسی لمحے جبرائیلؑ آئے اور پوچھا:
“کیا آپ کو کوئی مدد چاہیے؟”
ابراہیمؑ نے جواب دیا:
“تم سے نہیں، میرا رب میرے لیے کافی ہے۔”
یہ تھا توکل کا بلند ترین مقام۔
جیسے ہی وہ آگ میں گرے، اللہ کا حکم ہوا:
“اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔”
(سورہ الانبیاء: 69)
آگ نے کچھ نہ جلایا—سوائے ان رسیوں کے جن سے وہ بندھے ہوئے تھے۔
لوگوں نے دیکھا: آگ کے اندر ایک باغ ہے، اور ابراہیمؑ سکون سے بیٹھے ہیں۔
نمرود یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا، مگر تکبر نے اسے ایمان سے دور رکھا۔
: آخرکار ابراہیمؑ نے ہجرت کا فیصلہ کیا اور فرمایا
“میں اپنے رب کی طرف جا رہا ہوں، وہی میری رہنمائی کرے گا۔”
(سورہ الصافات: 99)
جب انسان کا واسطہ باطل یا ناانصافی سے پڑے، تو اسے جذبات میں بہنے کے بجائے حکمت اور ٹھوس دلیل سے کام لینا چاہیے۔
اگر آپ حق پر ہیں تو آپ کا توکل اور ذہنی سکون آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہم اللہ پر بھروسہ کر کے صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہیں، تو دنیا کی بڑی سے بڑی آگ (مشکلات) بھی ہمارا حوصلہ نہیں توڑ سکتیں اورجب انسان حق پر ہو، تو اسے مخلوق کے بجائے صرف خالق کی طرف دیکھنا چاہیے۔
زندگی میں جب ہمیں مشکلات کی “آگ” گھیر لے اور بظاہر بچنے کا کوئی راستہ نہ ہو، تب بھی اگر ہمارا ایمان مضبوط ہے تو اللہ ان حالات کے اندر ہی ہمارے لیے سکون اور سلامتی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ رسیاں جل جانا مگر انسان کا محفوظ رہنا اس بات کی علامت ہے کہ آزمائشیں دراصل ہمیں انسانی غلامی اور خوف کی زنجیروں سے آزاد کرنے آتی ہیں، بشرطیکہ ہم اللہ کے فیصلے پر راضی رہیں
سبق:
حق کے لیے دلیل ضروری ہے، جذبات نہیں
توکل سب سے بڑی طاقت ہے
مشکلات کی “آگ” بھی اللہ کے حکم سے سکون بن سکتی ہے
آزمائشیں ہمیں آزاد کرنے آتی ہیں، اگر ہم ثابت قدم رہیں-
اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ ابراہیمؑ اب ایک مسافر ہیں۔ ایک نئے ملک (مصر) میں ان کا سامنا ایک جابر بادشاہ سے ہوتا ہے جو حضرت سارہؑ کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہاں کیا معجزہ ہوا؟ اور بی بی ہاجرہؑ اس کہانی میں کیسے شامل ہوئیں؟