Epi 2
کبھی آپ نے سوچا ہے کہ اللہ نے روزوں کے لیے رمضان کا مہینہ ہی کیوں منتخب کیا؟ محرم یا رجب کیوں نہیں؟
اس کا جواب بہت خوبصورت ہے اور ہمارے لیے ایک بہت بڑا پیغام رکھتا ہے۔
:اللہ قرآن میں فرماتا ہے
“رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔”
ذرا غور کریں! رمضان اس لیے مہینوں کا سردار نہیں ہے کہ اس میں ہم بھوکے رہتے ہیں بلکہ یہ اس لیے خاص ہے کیونکہ اس مہینے میں آسمان سے زمین کا رابطہ بحال ہوا تھا۔ اس مہینے میں اللہ کا کلام ہمارے پاس آیا۔
اگر رمضان جسم ہے تو قرآن اس کی روح ہے۔
اور روح کے بغیر جسم کیا ہوتا ہے؟
صرف ایک بے جان لاشہ۔
اگر ہمارے رمضان میں قرآن کے ساتھ تعلق نہیں تو ہمارا رمضان بھی بے جان ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگوں نے قرآن کو صرف ثواب کی کتاب سمجھ لیا ہے۔
ہماری دوڑ لگی ہوتی ہے کہ کتنے پارے ختم ہو گئے؟ یا کتنے قرآن مکمل ہوئے؟
ہم الفاظ تو پڑھ رہے ہوتے ہیں لیکن وہ الفاظ ہمارے دل کے دروازے پر دستک دے کر واپس چلے جاتے ہیں اندر داخل نہیں ہو پاتے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں
اگر آپ کو دنیا کے کسی سب سے طاقتور بادشاہ یا آپ کے کسی انتہائی محبوب شخص کا خط ملے تو آپ کیا کریں گے؟
کیا آپ اسے تیزی سے پڑھ کر ایک طرف رکھ دیں گے؟
یا آپ ایک ایک لفظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں گے اس کا مطلب سمجھیں گے اور محسوس کریں گے کہ لکھنے والے نے یہ بات کس محبت سے لکھی ہے؟
یہ قرآن
یہ اس کائنات کے مالک کا خط ہے آپ کے نام
یہ کوئی پرانی تاریخی کتاب نہیں یہ آج بھی آپ سے باتیں کرتی ہے۔
پچھلی قسط میں ہم نے بات کی تھی کہ تقویٰ کانٹوں سے بچ کر گزرنے کا نام ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہمیں اندھیرے میں کیسے پتہ چلے گا کہ کانٹے کہاں ہیں اور راستہ کہاں ہے؟
یہاں قرآن آتا ہے۔ قرآن وہ ٹارچ (Light) ہے، وہ نقشہ (Map) ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ پیر کہاں رکھنا ہے۔ قرآن کے بغیر تقویٰ ناممکن ہےکیونکہ جب تک ہمیں سیدھے راستے کا علم ہی نہیں ہوگا ہم چلیں گے کیسے؟
رمضان کا اصل مقصد یہ نہیں کہ ہم قرآن کو ختم کریں بلکہ مقصد یہ ہے کہ قرآن ہمیں اندر سے بدل دے۔
اس رمضان اپنے قرآن پڑھنے کا انداز بدلیں۔
قرآن کو ایسے پڑھیں جیسے آپ اپنے رب سے گفتگو کر رہے ہوں۔ جب جنت کا ذکر آئے تو دل میں خواہش جگائیں جب جہنم کا ذکر آئے تو پناہ مانگیں اور جب کوئی حکم آئے تو سر جھکا دیں۔
یاد رکھیں شیلف میں رکھا ہوا قرآن گرد (Dust) تو اکٹھی کر سکتا ہے لیکن دل کا زنگ صرف تب اترے گا جب اسے کھول کر سمجھا جائے گا۔
آئیے اس رمضان قرآن سے اپنا رشتہ دوبارہ جوڑتے ہیں رسمی نہیں بلکہ حقیقی۔
آج آپ تلاوت بھلے تھوڑی کم کریں لیکن جو بھی پڑھیں (چاہے صرف 5 آیات) اسے اپنی زبان (ترجمے) میں ضرور پڑھیں۔ اور پڑھنے کے بعد آنکھیں بند کر کے سوچیں
میرے رب نے ان آیات میں مجھ سے کیا کہا ہے؟
جس دن آپ کو یہ محسوس ہو گیا کہ اللہ مجھ سے مخاطب ہے اس دن آپ کی زندگی اور آپ کا تقویٰ دونوں بدل جائیں گے۔