رمضان، قرآن اور تقویٰ

Epi 1

ہم ہر سال رمضان کا استقبال کرتے ہیں سحر و افطار کی تیاریاں ہوتی ہیں، مسجدیں آباد ہوتی ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو اتنا خاص کیوں بنایا؟
رمضان، قرآن اور تقویٰ یہ تینوں الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ ایک  ہیں جو مل کر ایک انسان کی کایا پلٹ دیتے ہیں۔
رمضان ایک ٹریننگ گراؤنڈ ہے
رمضان صرف بھوکا رہنے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک “ورکشاپ” ہے۔ جیسے ایک کھلاڑی میچ سے پہلے سخت ٹریننگ کرتا ہے رمضان ہمیں اپنے نفس پر قابو پانے کی ٹریننگ دیتا ہے۔ جب ہم حلال پانی کا گلاس سامنے ہوتے ہوئے بھی صرف اللہ کے لیے اسے نہیں چھوتے تو ہم دراصل اپنے دماغ کو یہ سکھا رہے ہوتے ہیں کہ اگر میں اللہ کے لیے جائز چیز چھوڑ سکتا ہوں تو میں اللہ کے لیے گناہ بھی چھوڑ سکتا ہوں

رمضان اور قرآن کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ اسے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن اسی مہینے میں اترا۔ کیوں؟ کیونکہ جب روزہ ہمارے اندر کی مٹی کو نرم کر دیتا ہے تو قرآن کی بارش اس میں ہدایت کا پودا لگاتی ہے۔ بغیر قرآن کے رمضان صرف ایک مشقت ہے

قرآن کہتا ہے: “تم پر روزے فرض کیے گئے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”

تقویٰ کیا ہے؟ بہت سادہ الفاظ میں اللہ کا ایسا احساس کہ تنہائی ہو یا محفل انسان گناہ کرتے ہوئے کترائے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم کانٹوں بھرے راستے پر اپنے کپڑے سمیٹ کر چلتے ہیں کہ کہیں کوئی کانٹا چبھ نہ جائے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی الجھی ہوئی ہے، سکون نہیں ہے، یا آپ خود کو خدا سے دور محسوس کر رہے ہیں، تو یاد رکھیں رمضان آپ کو یہ بتانے آیا ہے کہ آپ بدل سکتے ہیں آپ اتنے کمزور نہیں ہیں کہ اپنی خواہشات کے غلام رہیں۔ اگر آپ 15 گھنٹے پیاس برداشت کر سکتے ہیں تو آپ غصہ، جھوٹ اور حسد بھی چھوڑ سکتے ہیں۔ تقویٰ کوئی جادوئی چیز نہیں جو ایک دم آ جائے یہ اس چھوٹے سے احساس کا نام ہے جو آپ کو غلط کام سے روک دے۔
خود سے سوال کریں کہ
اس رمضان میں میں اپنے نفس کی کون سی ایک ایسی عادت قربان کروں گی جو مجھے میرے رب سے دور کر رہی ہے؟